سو جاتے ھیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کہ
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
آج مزدوروں کا دن ھے۔ دنیا بھر میں اسی دن کا شور ھے لیکن اس مقام پر سوچنے کی بات یہ ھے کہ آیا ہمارے دلوں میں مزدوروں اور انسانیت کا درد بھی ھے کہ نہیں؟ قسمت کا ستم تو دکیھیے کہ آج جن مزدوروں کا دن منایا جا رھا ھے اور جس دن کی ہم چٹھی منا رھے ھیں، وہی مزدور آج بھی گرمی میں اک وقت کے کھانے کے لیے اپنا پسینہ بہا رھے ھیں اور ان کے حقوق کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا رھا - افسوس ۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کیا ھے، عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ھے، انہی اجزا کا پریشاں ھونا
آج اس شعر پر میں جتنا سوچتا گیا، اتنا ھی زندگی اور موت کے راز مزید پراسرار ھوتے چلے گئے۔ کیا زندگی کا اختمام موت ھے یا موت اک اور زندگی کی ابتدا ھے اور اگر موت اک اور زندگی کی ابتدا ھے تو پھر اس زندگی کی انتہا کیا ھے؟
خواہش اور امید ھے کہ سب بخیریت ھوں گے ۔ کچھ عرصہ غیر حاضری کے لیے معذرت ، وجہ کچھ تعلیمی مصروفیات تھیں۔ اپنے وعدے کی عین مطابق میں آپ سب کی خدمت میں اپنے شاعری مجموعے کو برقی صورت میں آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کر رھا ھوں، امید ھے کمی بیشی معاف کریں گے کیونکہ میں فقط اردو کا ادنہٰ طالب ِ علم ھوں-
خوش اور آباد رھیے !
آداب، میرا نام نعمان علی ھے۔ اردو سے محبت میری رگوں میں لہو بن کر دوڑتی ھے۔ میرے بلاگ پر آپ میری شاعری ،جنون اور میری سوچ کی اڑان کا مشاہدہ کر سکیں گے۔